کیا محبتِ صحابہ ایمان کا جز ہے؟
جی ہاں، محبتِ صحابہ ایمان کا لازمی جز ہے۔ ایمان کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک صحابہ کرامؓ سے محبت نہ ہو،
اللہ کی ذات و صفات میں یا حقوق و اختیارات میں کسی کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔
اللہ کی کسی صفت کا انکار یا اسکے کسی امرکونہ ماننے سے بندہ دائرہ اسلام سے باہر ہوجاتا ہے۔
ہر وہ جو چیز جس کی بندگی، اطاعت یا پیروی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کی جائے۔
ہر نیا کام یا طریقہ ہے جو دینِ اسلام میں عبادت کے طور پر داخل کر دیا جائے بدعت ہے۔
اسلام رشوت کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے کیونکہ یہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دیتی ہے، عدل و انصاف کو تباہ کر دیتی ہے اور معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور کرپشن کو فروغ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور رشوت اس حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے اور لینے والے پر۔ لہٰذا ایک مسلم کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ وہ رشوت کے ہر راستے سے بچے اور عدل، دیانت اور حق پرستی کو اختیار کرے۔
جی ہاں، محبتِ صحابہ ایمان کا لازمی جز ہے۔ ایمان کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک صحابہ کرامؓ سے محبت نہ ہو،
نہیں، صرف محبتِ اہل بیت نجات کے لیے کافی نہیں ہے۔ دین اسلام کی بنیاد توحید، ایمان، اور اطاعتِ رسول ﷺ پر ہے۔ اللہ تعالیٰ
نہیں، صرف عقیدہ زبانی اقرار یا دعویٰ کافی نہیں، نجات کے لیے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی لازم ہیں۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے
جی ہاں، گناہگار مسلمان نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے اللہ کے اذن کے ساتھ نجات پا لے گا، اگر اس نے شرک نہ کیا
جی بالکل، نبی کریم ﷺ کی شفاعت اللہ تعالیٰ کے اذن سے صرف اہلِ ایمان کے لیے ہوگی، اور مشرکین و کافروں کے لیے نہیں۔
جی، صوفیہ کے تمام گروہ دین کے بنیادی عقائد سے الگ ہو گئے ہیں۔ اصل اسلام کا عقیدہ قرآن و سنت کی بنیاد پر توحیدِ
جی، صوفیہ کے تمام گروہ دین کے بنیادی عقائد سے الگ ہو گئے ہیں۔ اصل اسلام کا عقیدہ قرآن و سنت کی بنیاد پر توحیدِ
سلفی حضرات کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف “قرآن و سنت” سے عقیدہ لیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کے عقائد ان کے
جی بالکل، فتاویٰ عقیدے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر فتویٰ قرآن و سنت کے مطابق ہو تو وہ صحیح عقیدہ کی راہنمائی کرتا ہے،







براہِ کرم فارم پُر کریں تاکہ ہم آپ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں مزید جان سکیں۔
© 2026 Exclusive interior. All Rights Reserved.