کیا خلافتِ راشدہ پر اعتراض کفر ہے؟
خلافتِ راشدہ پر اعتراض کرنا کہ صحابہ کرامؓ کی نیت اور حقانیت کو جھٹلایا جائے، تو یہ کفر کی حد تک جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ
اللہ کی ذات و صفات میں یا حقوق و اختیارات میں کسی کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔
اللہ کی کسی صفت کا انکار یا اسکے کسی امرکونہ ماننے سے بندہ دائرہ اسلام سے باہر ہوجاتا ہے۔
ہر وہ جو چیز جس کی بندگی، اطاعت یا پیروی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کی جائے۔
ہر نیا کام یا طریقہ ہے جو دینِ اسلام میں عبادت کے طور پر داخل کر دیا جائے بدعت ہے۔
اسلام رشوت کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے کیونکہ یہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دیتی ہے، عدل و انصاف کو تباہ کر دیتی ہے اور معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور کرپشن کو فروغ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور رشوت اس حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے اور لینے والے پر۔ لہٰذا ایک مسلم کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ وہ رشوت کے ہر راستے سے بچے اور عدل، دیانت اور حق پرستی کو اختیار کرے۔
خلافتِ راشدہ پر اعتراض کرنا کہ صحابہ کرامؓ کی نیت اور حقانیت کو جھٹلایا جائے، تو یہ کفر کی حد تک جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ
قرآن و سنت کی روشنی میں خلافت کا معاملہ اللہ کے حکم اور نبی ﷺ کی رہنمائی کے مطابق ہوا ہے، اور اس پر صحابہ
اہل بیت بھی صحابہ میں داخل ہیں، ان کو صحابیت سے الگ کوئی مستقل درجہ دینا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کے بارے
نہیں، نبی ﷺ کی قبر پر جا کر مانگنا جائز نہیں ہے۔ عبادت، دعا اور مانگنا صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے، اور اگر
نبی ﷺ ہر جگہ بنفسِ نفیس حاضر نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ اللہ کے ایک برگزیدہ بشر و رسول ہیں، جنہیں الوہیت یا ماوراء البشر
نبی اکرم ﷺ جب دین میں کوئی بات فرماتے تو وہ اللہ کے اذن اور وحی کے تحت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَمَا
جی نہیں۔ نبی ﷺ بشر تھے، آپ ﷺ کا جسم، گوشت، ہڈیاں اور مٹی سب انسانی ہی تھے، کسی غیر بشری مادہ یا نورانی جسم
نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ امت کی ہدایت کے لیے ضروری تھا عطا فرمایا، اپنی نعمت کو تمام کر دیا دین مکمل
نبی ﷺ کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ کے منتخب بندے اور رسول تھے، بشر تھے، اور آپ ﷺ کی موت کے بعد وہ







براہِ کرم فارم پُر کریں تاکہ ہم آپ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں مزید جان سکیں۔
© 2025 Exclusive interior. All Rights Reserved.