کیا انبیاء اپنی اپنی امتوں پر گواہ ہونگے؟
جی ہاں، قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ قیامت کے دن انبیاء کرام اپنی اپنی امتوں پر گواہ ہوں
اللہ کی ذات و صفات میں یا حقوق و اختیارات میں کسی کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔
اللہ کی کسی صفت کا انکار یا اسکے کسی امرکونہ ماننے سے بندہ دائرہ اسلام سے باہر ہوجاتا ہے۔
ہر وہ جو چیز جس کی بندگی، اطاعت یا پیروی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کی جائے۔
ہر نیا کام یا طریقہ ہے جو دینِ اسلام میں عبادت کے طور پر داخل کر دیا جائے بدعت ہے۔
اسلام رشوت کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے کیونکہ یہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دیتی ہے، عدل و انصاف کو تباہ کر دیتی ہے اور معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور کرپشن کو فروغ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور رشوت اس حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے اور لینے والے پر۔ لہٰذا ایک مسلم کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ وہ رشوت کے ہر راستے سے بچے اور عدل، دیانت اور حق پرستی کو اختیار کرے۔
جی ہاں، قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ قیامت کے دن انبیاء کرام اپنی اپنی امتوں پر گواہ ہوں
اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا ایک عظیم عمل ہے جو ایمان کی پختگی اور اللہ پر بھروسے کا اظہار کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ
جی ہاں، شہداء اللہ کی اعلی جنتوں میں زندہ ہیں دنیاوی قبروں میں نہیں۔شہید کے لیے یہ عقیدہ واضح طور پر قرآن مجید میں بیان
جی ہاں، قرآنِ مجید میں واضح طور پر ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے تاکہ ان کے صبر اور
جب مصیبت آئے یا کچھ گم ہو جائے، تو مسلمان کو صبر اور دعا کے ساتھ اللہ کی مدد کی امید رکھنی چاہیے۔ قرآن و
اللہ گناہوں کو اپنی رحمت، معافی، اور فضل کی بنیاد پر معاف کرتا ہے۔ بشرطیکہ بندہ سچی توبہ کرے، اللہ کی طرف رجوع کرے، اور
جی ہاں، قرآن میں ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ مردوں کو زندہ
ایک اَن پڑھ شخص بھی اللہ کو پہچان سکتا ہے، کیونکہ اللہ کی پہچان صرف علم کی بنیاد پر نہیں بلکہ دل و دماغ کی
غیر اللہ سے اللہ جیسی محبت کرنا شرک کے مترادف ہے، جو کہ اسلام میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ اللہ کی توحید اور اس







براہِ کرم فارم پُر کریں تاکہ ہم آپ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں مزید جان سکیں۔
© 2026 Exclusive interior. All Rights Reserved.