اللہ نے ذلیل بندر کس جرم پر بنایا تھا؟
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام کے انجام کو بطور عبرت ذکر کیا ہے تاکہ انسان گناہ سے بچے اور اطاعت کی راہ
اللہ کی ذات و صفات میں یا حقوق و اختیارات میں کسی کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔
اللہ کی کسی صفت کا انکار یا اسکے کسی امرکونہ ماننے سے بندہ دائرہ اسلام سے باہر ہوجاتا ہے۔
ہر وہ جو چیز جس کی بندگی، اطاعت یا پیروی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کی جائے۔
ہر نیا کام یا طریقہ ہے جو دینِ اسلام میں عبادت کے طور پر داخل کر دیا جائے بدعت ہے۔
اسلام رشوت کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے کیونکہ یہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دیتی ہے، عدل و انصاف کو تباہ کر دیتی ہے اور معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور کرپشن کو فروغ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور رشوت اس حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے اور لینے والے پر۔ لہٰذا ایک مسلم کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ وہ رشوت کے ہر راستے سے بچے اور عدل، دیانت اور حق پرستی کو اختیار کرے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام کے انجام کو بطور عبرت ذکر کیا ہے تاکہ انسان گناہ سے بچے اور اطاعت کی راہ
مافوق الاسباب مدد صرف اللہ سے مانگنی چایئے۔ اسلام میں ایسی مدد صرف اللہ تعالیٰ سے مانگنا عقیدہِ توحید کا بنیادی حصہ ہے۔ نفع و
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ وہ نہ صرف مردوں کو زندہ کرے گا
جی ہاں، قرآنِ مجید اس حقیقت کو بڑی شدت سے بیان کرتا ہے کہ بعض انسانوں کے دل اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ وہ
قرآن مجید کی بعض آیات کو ماننا اور بعض کا انکار کرنا انتہائی سنگین گناہ ہے اور اس کی سخت سزا قرآن میں بیان کی
قرآن مجید میں جادو کے بارے میں کئی مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن نے جادو کے وجود کو تسلیم کیا ہے لیکن ساتھ
اللہ کی مساجد میں اللہ کے ذکر سے روکنے کو قرآن نے سب سے بڑا ظلم قرار دیا ہے، کیونکہ یہ عمل اللہ کے دین
نہیں! مشرک کو مومنوں کا امام نہیں بنایا جا سکتا۔ اسلام میں امامت یا رہنما کا تقرر ایک بڑی ذمہ داری ہے، اور اس کے
قیامت کے دن ہر شخص اپنے عمل کے لیے خود جواب دہ ہوگا، اور کسی دوسرے شخص کے عمل کا بوجھ کسی پر نہیں ڈالا







براہِ کرم فارم پُر کریں تاکہ ہم آپ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں مزید جان سکیں۔
© 2026 Exclusive interior. All Rights Reserved.