کیا علیؓ کو خلافت کا حق پہلے تھا؟
نہیں، علیؓ کو خلافت کا پہلا حق حاصل نہ تھا، بلکہ خلافت کا پہلا مستحق وہی تھا جسے امت نے اتفاقِ رائے سے چنا، یعنی
اللہ کی ذات و صفات میں یا حقوق و اختیارات میں کسی کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔
اللہ کی کسی صفت کا انکار یا اسکے کسی امرکونہ ماننے سے بندہ دائرہ اسلام سے باہر ہوجاتا ہے۔
ہر وہ جو چیز جس کی بندگی، اطاعت یا پیروی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کی جائے۔
ہر نیا کام یا طریقہ ہے جو دینِ اسلام میں عبادت کے طور پر داخل کر دیا جائے بدعت ہے۔
اسلام رشوت کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے کیونکہ یہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دیتی ہے، عدل و انصاف کو تباہ کر دیتی ہے اور معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور کرپشن کو فروغ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور رشوت اس حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے اور لینے والے پر۔ لہٰذا ایک مسلم کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ وہ رشوت کے ہر راستے سے بچے اور عدل، دیانت اور حق پرستی کو اختیار کرے۔
نہیں، علیؓ کو خلافت کا پہلا حق حاصل نہ تھا، بلکہ خلافت کا پہلا مستحق وہی تھا جسے امت نے اتفاقِ رائے سے چنا، یعنی
نہیں، ایک ہی صحیح حدیث پر متضاد عقیدے نہیں بن سکتے۔ “عقیدہ” ایمان کا سب سے بنیادی اور قطعی حصہ ہے، اور عقیدہ ہمیشہ ایک
جی ہاں، اجتہاد آج بھی ممکن ہے بلکہ لازم ہے، لیکن صرف ان مسائل میں جن پر قرآن و حدیث خاموش ہوں یا جہاں نصوص
تقلیدِ امام کا واجب ہونا قرآن و سنت میں کہیں نہیں آیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، علم اور بصیرت دی ہے تاکہ
اگر کوئی شخص صرف قرآن کو مانے اور حدیثِ رسول ﷺ کا انکار کرے تو وہ اسلام کے مکمل فہم سے باہر نکل جاتا ہے۔
جی ہاں، صحیح حدیثِ واحد سے عقیدہ ثابت ہو سکتا ہے اگر وہ صحیح السند ہو، قرآن و سنت کے مخالف نہ ہو، اور امت
ہر مسلمان قرآن و سنت سے عمومی نصیحت ضرور لے سکتا ہے، جیسے توحید، تقویٰ، صبر، اخلاص، آخرت کا یقین، والدین سے حسن سلوک وغیرہ۔
جب فہم صحابہ، سبیل صحابہ کو قرآن معیار قرار دیتا ہے تو صحابہؓ کے فہم کے بغیر دین صحیح طور پر سمجھا ہی نہیں جا
جی ہاں، اجماعِ صحابہؓ دین میں قطعی حجت ہے، کیونکہ صحابۂ کرامؓ براہِ راست نبی کریم ﷺ کے تربیت یافتہ تھے، وحی کے زمانے میں







براہِ کرم فارم پُر کریں تاکہ ہم آپ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں مزید جان سکیں۔
© 2026 Exclusive interior. All Rights Reserved.