کیا کشف کو شرعی دلیل بنایا جا سکتا ہے؟
نہیں، کشف کو شرعی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ اسلام میں شریعت کی بنیاد صرف قرآن، صحیح حدیث، اور اجماعِ صحابہ ہے۔ کشف، خواب، الہام
اللہ کی ذات و صفات میں یا حقوق و اختیارات میں کسی کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔
اللہ کی کسی صفت کا انکار یا اسکے کسی امرکونہ ماننے سے بندہ دائرہ اسلام سے باہر ہوجاتا ہے۔
ہر وہ جو چیز جس کی بندگی، اطاعت یا پیروی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کی جائے۔
ہر نیا کام یا طریقہ ہے جو دینِ اسلام میں عبادت کے طور پر داخل کر دیا جائے بدعت ہے۔
اسلام رشوت کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے کیونکہ یہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دیتی ہے، عدل و انصاف کو تباہ کر دیتی ہے اور معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور کرپشن کو فروغ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور رشوت اس حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے اور لینے والے پر۔ لہٰذا ایک مسلم کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ وہ رشوت کے ہر راستے سے بچے اور عدل، دیانت اور حق پرستی کو اختیار کرے۔
نہیں، کشف کو شرعی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ اسلام میں شریعت کی بنیاد صرف قرآن، صحیح حدیث، اور اجماعِ صحابہ ہے۔ کشف، خواب، الہام
نہیں، ولی اللہ کو آئندہ کا علم (علمِ غیب) نہیں ہوتا۔ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے،
اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی کو وحی نہیں آ سکتی، کیونکہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ
نہیں، اسلام کے مطابق عورت نبی نہیں ہو سکتی۔ قرآن و سنت سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا منصب صرف
نہیں، بغیر نیت کے کوئی بھی نیک عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا۔ اسلام میں ہرعمل کی اصل بنیاد نیت ہے، اور نیت ہی
جی ہاں، جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اور اس سے توبہ کیے بغیر مر جاتا ہے، وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں
جو شخص صحابہ کرامؓ کی گستاخی کرتا ہے، وہ سخت گمراہ، فاسق، بدعقیدہ اور بعض اوقات کفر تک پہنچ جاتا ہے خصوصاً جب وہ ان
جی ہاں، نبی ﷺ کے بارے میں غلو (حد سے بڑھنا) شرک کی طرف لے جاتا ہے، اگر اس میں ایسے اوصاف یا اختیارات نبی
نیک نیت سے بدعت کرنا بھی معاف نہیں، بلکہ دین میں اضافہ کرنے کی جسارت ہے، جو بدترین گمراہی ہے۔ شریعت نیت کے ساتھ ساتھ







براہِ کرم فارم پُر کریں تاکہ ہم آپ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں مزید جان سکیں۔
© 2026 Exclusive interior. All Rights Reserved.