کیا “توسل بالاموات” قرآن سے ثابت ہے؟
توسل بالاموات – یعنی فوت شدہ بزرگوں کو وسیلہ بنا کر دعا کرنا قرآن سے ثابت نہیں بلکہ یہ توحید کے منافی عمل ہے۔ دین
اللہ کی ذات و صفات میں یا حقوق و اختیارات میں کسی کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔
اللہ کی کسی صفت کا انکار یا اسکے کسی امرکونہ ماننے سے بندہ دائرہ اسلام سے باہر ہوجاتا ہے۔
ہر وہ جو چیز جس کی بندگی، اطاعت یا پیروی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کی جائے۔
ہر نیا کام یا طریقہ ہے جو دینِ اسلام میں عبادت کے طور پر داخل کر دیا جائے بدعت ہے۔
اسلام رشوت کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے کیونکہ یہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دیتی ہے، عدل و انصاف کو تباہ کر دیتی ہے اور معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور کرپشن کو فروغ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور رشوت اس حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے اور لینے والے پر۔ لہٰذا ایک مسلم کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ وہ رشوت کے ہر راستے سے بچے اور عدل، دیانت اور حق پرستی کو اختیار کرے۔
توسل بالاموات – یعنی فوت شدہ بزرگوں کو وسیلہ بنا کر دعا کرنا قرآن سے ثابت نہیں بلکہ یہ توحید کے منافی عمل ہے۔ دین
یہ سوال سیدھا عقیدۂ توحید سے تعلق رکھتا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں “نبی ﷺ کے صدقے سے مانگنا” یعنی یہ کہنا کہ
جی ہاں،قرآن اور نبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث کے مطابق تعویذ (گلے یا بدن پر لٹکانا) شرک ہے۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا وَإِن
قرآن و سنت کی روشنی میں قبروں پر جا کر دعا مانگنے کی دو صورتیں ہیں، اور ان کا حکم الگ ہے قبروں پر جا
اللہ تعالیٰ نے دعا اور وسیلہ کے بارے میں قرآن میں بالکل واضح ہدایت دی ہے۔ دعا صرف اللہ سے کرنی ہے، کیونکہ حاجت روائی
روحوں کا زندہ انسانوں سے بات کرنا ثابت نہیں۔ انسان کے مرنے کے بعد اس کی روح برزخ میں چلی جاتی ہے، اور زندہ اور
نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام علومِ اولین و آخرین عطا نہیں فرمائے۔ ان پر صرف وہی علم نازل ہوا اور دیا گیا جو
مرنے کے بعد روحیں آزاد تصرف نہیں رکھتیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ہر انسان کی روح اللہ کے قبضے اور حکم میں ہے۔
نہیں، اولیاء اللہ لوگوں کے دلوں کا حال نہیں جانتے۔ دلوں کا علم، نیتوں کا ادراک اور باطن کا مشاہدہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ







براہِ کرم فارم پُر کریں تاکہ ہم آپ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں مزید جان سکیں۔
© 2026 Exclusive interior. All Rights Reserved.