کیا مجدد کو نبی جیسا مقام حاصل ہوتا ہے؟
عقیدہ یہ ہے کہ کسی مجدد کو نبی ﷺ جیسا مقام حاصل نہیں ہوتا کیونکہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے
اللہ کی ذات و صفات میں یا حقوق و اختیارات میں کسی کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔
اللہ کی کسی صفت کا انکار یا اسکے کسی امرکونہ ماننے سے بندہ دائرہ اسلام سے باہر ہوجاتا ہے۔
ہر وہ جو چیز جس کی بندگی، اطاعت یا پیروی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کی جائے۔
ہر نیا کام یا طریقہ ہے جو دینِ اسلام میں عبادت کے طور پر داخل کر دیا جائے بدعت ہے۔
اسلام رشوت کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے کیونکہ یہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دیتی ہے، عدل و انصاف کو تباہ کر دیتی ہے اور معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور کرپشن کو فروغ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور رشوت اس حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے اور لینے والے پر۔ لہٰذا ایک مسلم کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ وہ رشوت کے ہر راستے سے بچے اور عدل، دیانت اور حق پرستی کو اختیار کرے۔
عقیدہ یہ ہے کہ کسی مجدد کو نبی ﷺ جیسا مقام حاصل نہیں ہوتا کیونکہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے
نبی ﷺ کے بعد کوئی بھی نبی نہیں بن سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کو آپ ﷺ پر ختم فرما دیا ہے۔ اللہ کا
نبوت اللہ کی طرف سے عطا کردہ منصب ہے جو مخصوص انبیاء کو دی گئی اور محمد ﷺ پر ختم ہو گئی، اسے ولایت میں
نبی ﷺ کی ختمِ نبوت کے بعد وحی کا آنا ناممکن ہے، کیونکہ آپ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس کے بعد
دربار پر منت ماننا جائز نہیں کیونکہ دربار اور مزارات خود شریعت میں ناجائز ہیں اور ان پر جا کر کسی حاجت کے لیے نذر
منزل یا سورۃ یٰس کو دم کے لیے مخصوص کرنا قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ نبی ﷺ نے منزل یا خاص سورت یسن کو
آج کل جو “قرآن سے شفا” کو ایک کاروبار اور پیشہ بنا دیا گیا ہے یہ دین کا حصہ نہیں بلکہ بدعت اور دنیا پرستی
نقش اور تعویذ پہننا دین میں جائز نہیں ہے کیونکہ یہ عمل قرآن و سنت سے ثابت نہیں اور اس میں غیر اللہ پر توکل
مروجہ دم درود اور چلہ کشی دین کا حصہ نہیں بلکہ یہ خود ساختہ رسومات اور بدعات ہیں جن کی اصل قرآن و سنت میں







براہِ کرم فارم پُر کریں تاکہ ہم آپ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں مزید جان سکیں۔
© 2026 Exclusive interior. All Rights Reserved.