جی ہاں، قرآن میں ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ مردوں کو زندہ کیسے کیا جائے گا۔ یہ واقعہ البقرہ میں بیان ہوا ہے
ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوال شک کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے یقین میں مزید اضافہ اور دل کی تسلی کے لیے کیا تھا۔
اللہ کی حکمت بھری تعلیم دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ چار پرندوں کو مانوس کریں، پھر ان کے ٹکڑے کر کے مختلف پہاڑوں پر رکھ دیں، اور انہیں آواز دیں۔ یہ معجزہ ان کے سامنے پیش آیا، اور پرندے زندہ ہو کر ان کے پاس واپس آ گئے۔ فرمایا
“رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى”
“اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟”
(سورہ البقرہ :260)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“أَوَلَمْ تُؤْمِنْ؟ قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي”
“کیا تُو ایمان نہیں رکھتا؟” انہوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن (میں چاہتا ہوں) کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں چار پرندے لے کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے مختلف پہاڑوں پر رکھنے کا حکم دیا، اور پھر انہیں بلانے کو کہا۔ چنانچہ پرندے اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر واپس آ گئے۔