ایک اَن پڑھ شخص بھی اللہ کو پہچان سکتا ہے، کیونکہ اللہ کی پہچان صرف علم کی بنیاد پر نہیں بلکہ دل و دماغ کی سچائی اور اخلاص پر ہوتی ہے۔ آسمان، زمین، دریا، پہاڑ، اور درخت وغیرہ کو دیکھ کر اللہ کی عظمت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
انسان کا جسم، اس کی زندگی کی گردش، اور اس کی فطرت میں چھپے ہوئے اشارے اللہ کی حکمت اور قدرت کا مظہر ہیں۔ اللہ کی تخلیق کی خوبصورتی اور اس کے احکام کی پیروی انسان کے دل میں اللہ کے وجود کا احساس پیدا کرتی ہے۔ جیسے فرمایا

اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ مَّاۗءٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّةٍ ۠ وَّتَـصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۝

بے شک آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق میں اور رات دن کے بدلتے رہنے میں اور اُن کشتیوں میں جو سمندر میں چلتی ہیں وہ (چیزیں) اُٹھائے جو لوگوں کو نفع پہنچاتی ہیں اور جو اللہ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا پھر اس سےزمین کو اس کے مُردہ ہو جانے کے بعد زندہ فرمایا اور اس میں ہر قسم کے جان دار پھیلا دیے اور ہَواؤں کے بدلتے رہنے میں اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان (حکمِ الٰہی کے) پابند ہیں یقیناً (اِن سب میں) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
(البقرہ-164)

اللہ کی پہچان کرنے کے لیے کچھ بنیادی طریقے ہیں جو ہر شخص، چاہے وہ پڑھے لکھے ہوں یا انپڑھے اپناتا ہے

اللہ کی تخلیق میں غور و فکر
اللہ کی پہچان کا آغاز اس کی تخلیق سے ہوتا ہے۔ ایک انپڑھ شخص کے لیے بھی اللہ کی پہچان ممکن ہے جب وہ اپنے ارد گرد کی دنیا میں غور کرے

اللہ کی صفات کا علم
اگرچہ ایک انپڑھ شخص قرآن یا حدیث نہیں پڑھ سکتا، مگر وہ اللہ کی صفات اور اس کے ناموں کو سیکھ سکتا ہے

اللہ کے کچھ اہم نام جیسے الرحمن، الرحیم، الملک، الخالق، القدوس وغیرہ اس کی رحمت، قدرت، اور پاکیزگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
اللہ کی صفات میں غور کرنے سے بھی ایک انپڑھ شخص کو اللہ کو پہچاننے اور کے قریب جانے کا موقع ملتا ہے۔