کیا نبی ﷺ کا سایہ نہ ہونا ان کے نور ہونے کی دلیل ہے؟
یہ عقیدہ کہ نبی ﷺ کا کوئی سایہ نہیں تھا اس لئے یہ ان کے نور ہونے کی دلیل ہے، دونوں باتیں قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ اصل یہ ہے کہ نبی ﷺ بشر تھے، جیسے باقی انسانوں کے سائے ہوتے ہیں ان کا بھی سایہ تھا۔ قرآن نے نبی ﷺ کے بارے میں واضح فرمایا
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ
کہہ دو، میں تو تمہاری طرح ایک بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے
(الکہف: 110)
اور سایہ اللہ کی ہر مخلوق کے ساتھ لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّؤُا ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے، اس کے سائے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں، اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے اور عاجزی اختیار کرتے ہیں
(النحل: 48)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر مخلوق کا سایہ ہے اور وہ اپنے رب کے حکم کے مطابق جھکتا ہے۔ نبی ﷺ بھی اللہ کی مخلوق اور بشر ہیں، ان کے بھی سائے تھے۔
حدیث میں بھی نبی ﷺ کے چلنے اور سائے کے ساتھ واقعے ملتے ہیں، نبی ﷺ کا سایہ نہ ہونا کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں بلکہ گھڑی ہوئی بات ہے۔ آپ ﷺ انسان ہیں، اللہ نے آپ کو نورِِ وحی عطا فرمایا، لیکن آپ بشر ہیں، اور بشر کا سایہ ہونا فطری امر ہے۔