قرآنِ مجید نے جادو کے وجود اور اس کے بعض ظاہری اثرات کو حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا کہ جادو اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
سب سے واضح مقام البقرہ میں ہے، جہاں جادو کا ذکر بنی اسرائیل کے ایک فتنے کے طور پر آیا
فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَزَوْجِهِۦ ۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ
پس وہ ان سے وہ (جادو) سیکھتے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے، حالانکہ وہ اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، مگر اللہ کے حکم سے۔
(البقرہ 102)
یہ آیت بتاتی ہے کہ جادو ایک کفریہ عملی فتنہ ہے، اس کے کچھ ظاہری اثرات ہوتے ہیں (مثلاً ذہنی الجھن، تعلقات میں بگاڑ) لیکن اس کی حقیقی طاقت نہیں، صرف اللہ کے اذن سے ہی کچھ اثر ہو سکتا ہے
نبی ﷺ پر بھی جادو کیا گیا تھا، جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے خود وحی کے ذریعے آپ کو شفا دی، تاکہ امت کو معلوم ہو کہ جادو کا اثر حقیقی ہو سکتا ہے، مگر اس سے نجات اللہ ہی دیتا ہے۔
اسی لیے اللہ نے معوذتین ( الفلق اور الناس) نازل فرمائیں، جن میں جادو، حسد اور شیطانی وسوسوں سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی
وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ
اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے (پناہ مانگتا ہوں)
(الفلق 4)
یعنی جو لوگ گرہ میں پھونک مار کر جادو کرتے ہیں، ان کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرنا سکھایا گیا۔
لہذا قرآن جادو کے ظاہری اثر کو تسلیم کرتا ہے، مگر ساتھ ہی واضح کرتا ہے کہ جادو خود سے کچھ نہیں کر سکتا، نفع و نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
شفا اور حفاظت کا راستہ اللہ سے رجوع، دعا، اور قرآن ہے نہ کہ جادو کے توڑ کے نام پر جھوٹے عاملوں اور شرکیہ طریقوں کا سہارا لینا۔
اہلِ ایمان کے لیے یہی ہدایت ہے کہ وہ جادو سے ڈرنے کے بجائے اللہ پر بھروسہ کریں، اور اللہ کو اپنا محافظ بنائیں۔