غیر اللہ سے اللہ جیسی محبت کرنا شرک کے مترادف ہے، جو کہ اسلام میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ اللہ کی توحید اور اس کی یکتائی کا یقین رکھنے والا مسلمان ہر قسم کے شرک سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ شرک ایمان کے بالکل مخالف ہے۔ غیر اللہ سے اللہ جیسی محبت کرنے والے کے بارے میں شدید عذاب کا مژدہ سنایا گیا ہے۔فرمایا

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ۭ وَلَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ ۝

اور لوگوں میں سے کچھ (ایسے بھی) ہیں جو اوروں کو اللہ کا مدِمقابل بناتے ہیں اُن سےایسی محبت کرتے ہیں جیسے اللہ کی محبت (ہونی چاہیے) اور جو ایمان لائے ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں اور کاش ! وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ہے (ابھی) سمجھ لیں (وہ تب جانیں گے) جب وہ (آنکھوں سے) عذاب دیکھیں گے بےشک قوّت ساری اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
(البقرہ-165)

یہ آیت بتاتی ہے کہ مشرکوں کا جرم صرف یہ نہیں کہ وہ بتوں یا بزرگوں کی پوجا کرتے ہیں، بلکہ ان سے اللہ جیسی محبت کرنا ہی سب سے بڑا شرک ہے۔

ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے:
“إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ”
“جس دن وہ جن کی پیروی کی گئی، پیروی کرنے والوں سے بیزار ہو جائیں گے، اور وہ عذاب دیکھیں گے…”
(البقرہ: 166)
ایمان کی اصل بنیاد یہی ہے کہ محبت، خوف، امید اور بندگی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہو۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور سے ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی محبت صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے، وہ قرآن کے مطابق شدید گمراہی میں ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “من أحب شيئاً أُعذّب به”
“جو کوئی غیر اللہ سے محبت کرے (ایسی محبت جو اللہ کے حق میں ہو)، تو وہ اسی کے ذریعے عذاب دیا جائے گا۔”
(مسند أحمد، رقم: 22316)

لہٰذا جو شخص غیر اللہ سے اللہ جیسی محبت رکھتا ہے، چاہے وہ نبی ہو، ولی ہو یا کوئی اور، وہ درحقیقت شرکِ محبت میں مبتلا ہے، اور قیامت کے دن اس کا انجام حسرت، رسوائی اور عذاب ہو گا، الا یہ کہ وہ سچی توبہ کر کے محبت کو صرف اللہ کے لیے خالص کر دے۔