کیا حدیثِ ضعیف عقیدہ میں حجت ہے؟
نہیں، عقیدہ میں ضعیف حدیث حجت نہیں بن سکتی۔ عقیدہ وہ بنیاد ہے جس پر ایمان کھڑا ہے، اور اس میں صرف قطعی و یقینی
اللہ کی ذات و صفات میں یا حقوق و اختیارات میں کسی کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔
اللہ کی کسی صفت کا انکار یا اسکے کسی امرکونہ ماننے سے بندہ دائرہ اسلام سے باہر ہوجاتا ہے۔
ہر وہ جو چیز جس کی بندگی، اطاعت یا پیروی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کی جائے۔
ہر نیا کام یا طریقہ ہے جو دینِ اسلام میں عبادت کے طور پر داخل کر دیا جائے بدعت ہے۔
اسلام رشوت کو سختی سے حرام قرار دیتا ہے کیونکہ یہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دیتی ہے، عدل و انصاف کو تباہ کر دیتی ہے اور معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور کرپشن کو فروغ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور رشوت اس حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے اور لینے والے پر۔ لہٰذا ایک مسلم کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ وہ رشوت کے ہر راستے سے بچے اور عدل، دیانت اور حق پرستی کو اختیار کرے۔
نہیں، عقیدہ میں ضعیف حدیث حجت نہیں بن سکتی۔ عقیدہ وہ بنیاد ہے جس پر ایمان کھڑا ہے، اور اس میں صرف قطعی و یقینی
جی نہیں، دین صرف قرآن سے مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ قرآن کے ساتھ سنتِ رسول ﷺ بھی لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ
وِرد اور ذکر انسان کو اللہ تعالیٰ سے قریب کرتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ذکر قرآن و سنت سے ثابت ہو۔ اللہ
فنا فی الرسول کا عقیدہ (یعنی اپنی ذات کو نبی ﷺ کی ذات میں فنا کر دینا اور ان کے وجود میں وجود مان لینا)
اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل اور واضح فرمایا ہے اور شریعت ہی انسان کی اصلاح اور روحانی ترقی کا واحد راستہ ہے۔ اگر کوئی
نہیں، یہ عقیدہ اپنے اندر بہت آیات کا کفر رکھتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قبر میں کیا ہے، یا مردے
خواب بذاتِ خود شریعت کا ماخذ نہیں۔ عقیدہ اور عمل صرف قرآن و سنت سے ثابت ہوتے ہیں، خواب خواہ کسی شیخ یا بزرگ سے
اللہ تعالیٰ نے ذکر کی ترغیب دی ہے مگر کسی خاص “حلقہ” یا “مجلس” کی صورت میں باقاعدہ دائرہ بنا کر اجتماعی ذکر کرنا قرآن
قرآن اور مستند احادیث سے جو اذکار اور دعائیں ثابت ہیں، وہی اصل ذکر ہیں۔ ان ہی میں برکت ہے اور قبولیت کی ضمانت ہے۔







براہِ کرم فارم پُر کریں تاکہ ہم آپ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں مزید جان سکیں۔
© 2026 Exclusive interior. All Rights Reserved.